مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کشتی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھی۔
یو ایس سدرن کمان، جو لاطینی امریکہ اور کیریبین میں فوجی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے، نے بتایا کہ جمعہ کے روز کی گئی کارروائی میں تین افراد مارے گئے۔ اس آپریشن کو مہلک کارروائی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ بحرالکاہل کے اس حصے میں کیا گیا جو منشیات کی اسمگلنگ کے معروف راستے کے طور پر جانا جاتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی فوج نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد واقعی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
جمعہ کے روز ہونے والی یہ ہلاکتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران مشرقی بحرالکاہل اور کیریبین سمندر میں کشتیوں پر کیے گئے حملوں کی تعداد کو بڑھا کر کم از کم 148 تک لے گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ستمبر کے آغاز سے اب تک امریکی فوج تقریباً 43 حملے کر چکی ہے۔
لاطینی امریکہ کے رہنماؤں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس فوجی مہم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی پانیوں میں، جہاں اس کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، ماورائے عدالت ہلاکتیں کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ